1493 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى) فَقَالَ « أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ». فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا. قَالَ « لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ». قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَكَرِهَ ذَلِكَ قَالَ لَوْ كَرِهَ لَنَهَى عَنْهُ.
1493 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز ادا کرتے ہوئے اس میں سورت الاعلی کی تلاوت کی، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم میں سے کون شخص قرات کررہا تھا ایک شخص نے عرض کی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی سوچ رہا تھا کوئی شخص درمیان میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں، میں نے قتادہ سے دریافت کیا : کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا، تو انھوں نے جواب دیا اگر آپ اسے ناپسندیدہ سمجھا ہوتا تو آپ اس سے منع کردیتے۔