150 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِى مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ مَرَّ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلَجِىُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ عَنِ التَّغَوُّطِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَنَكَّبَ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَقْبِلَهَا وَلاَ يَسْتَدْبِرَهَا وَلاَ يَسْتَقْبِلَ الرِّيحَ وَأَنْ يَسْتَنْجِىَ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ أَوْ ثَلاَثَةِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاَثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ. لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سراقہ بن مالک مدلجی، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور آپ سے قضائے حاجت کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے یہ ہدایت کی : وہ قبلہ کی طرف سے ہٹ کر بیٹھے، اس کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے اور جس طرف ہوا چل رہی ہو اس طرف منہ نہ کرے، اور وہ تین پتھروں کے ذریعے استنجاء کرے، جس میں کوئی مینگنی شامل نہ ہو یا تین لکڑیوں کے ذریعے کرے یا مٹی کے تین لپ کے ذریعے کرے۔