1515 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَعَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاَةَ الصُّبْحِ فِى مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَانْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِى آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ فَقَالَ « عَلَىَّ بِهِمَا ». فَأُتِىَ بِهِمَا تَرْعُدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ « مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ». قَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِى رِحَالِنَا. قَالَ « لاَ تَفْعَلاَ إِذَا صَلَّيْتُمَا فِى رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ ».
1515 ۔ جابر بن یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کے حج میں شریک ہواہوں میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز مسجد خیف میں ادا کی جب آپ نے اپنی نماز کو مکمل کرلیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہاں لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی تھی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : ان کو میرے پاس لاؤ ان دونوں کو لایا گیا تو دونوں کانپ رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی ؟ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کرچکے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یسانہ کیا کرو جب تم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کرچکے ہو تو پھر تم مسجد میں آؤ جہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا ہورہی ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کریں کرو یہ تمہارے لیے نفل نماز بن جائے گی۔