156 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الأَنْطَاكِىُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِى السِّوَاكِ عَشْرُ خِصَالٍ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ تَعَالَى وَمَسْخَطَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَمَفْرَحَةٌ لِلْمَلاَئِكَةِ جَيِّدٌ لِلَّثَةِ وَيُذْهِبُ بِالْحَفْرِ وَيَجْلُو الْبَصَرَ وَيُطَيِّبُ الْفَمَ وَيُقَلِّلُ الْبَلْغَمَ وَهُوَ مِنَ السُّنَّةِ وَيَزِيدُ فِى الْحَسَنَاتِ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں : مسواک میں دس خوبیاں ہیں : یہ پروردگار کی رضامندی کا باعث ہے، شیطان کی ناراضگی کا باعث ہے، فرشتوں کو خوش کرنے کا باعث ہے، مسوڑھوں کی صحت اور خوبصورتی کا باعث ہے، دانتوں کی میل کو ختم کردیتی ہے، بصارت کو تیز کرتی ہے، منہ میں خوشبو پیدا کرتی ہے، بلغم کو کم کرتی ہے، مسواک کرنا سنت ہے اور یہ نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے۔
شیخ ابوالحسن بیان کرتے ہیں : اس روایت کے راوی معلی بن میمون ضعیف اور متروک ہیں۔