1560 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِى افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ ».
1560: حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :(ہم دنیا میں) بعد میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن آگے ہونے والے ہوں گے ‘ اس کی وجہ یہ ہے : ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد کتاب دی گئی ‘ تو یہ وہ دن ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لازم کیا تھا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کی تو اس بارے میں لوگ ہمارے پیروکار ہیں ‘ یہودیوں کا دن کل (ہفتے کا دن ہے) اور عیسائیوں کا دن کے بعد والا (اتوارکادن) ہے۔