1655 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ قُلْتُ لاَ يَغْلِبُنِى اللَّيْلَةَ عَلَى الْمَقَامِ أَحَدٌ فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَىَّ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَتَنَحَّيْتُ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ فَقَرَأَهُ فِى رَكْعَةٍ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَةً . قَالَ هِىَ وِتْرِى.
1655 عبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں ایک دفعہ میں نے سوچا کہ آج رات مجھے کوئی مقام ابراہیم سے الگ نہ کرسکے گا ‘ ایک شخص آیا ‘ اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا ‘ میں نے مڑکردیکھا تو وہ امیرالمومنین حضرت عثمان غنی (رض) تھے ‘ میں پیچھے ہٹ گیا ‘ انھوں نے قرآن کی تلاوت شروع کی اور ایک رکعت میں اسے پڑھ لیا ‘ میں نے عرض کی اے امیرالمومنین ! آپ نے ایک رکعت ادا کی، تو انھوں نے جواب دیا یہ میرے وتر تھے۔