1672 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَكَعَ فِى الصَّلاَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ « اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِى رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِى يُوسُفَ ». ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا.
1672 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے دوران رکوع میں گئے ‘ پھر آپ نے سر اٹھایا اور یہ دعا کی
اے اللہ ! عیاش بن ربیعہ کو نجات عطاء کر ! اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات عطاء کر ! اے اللہ ! ولیدبن ولید کو نجات عطاء کر ! اے اللہ ! کمزور مسلمانوں کو نجات عطاء کر ! اے اللہ ! اپنی سختی مضر (قبیلے کے افرادپر) نازل کر ! اے اللہ ! ان کے اوپر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قحط سالی مسلط کر ! (اے اللہ ! ) پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں چلے گئے۔