170 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَخْبَرَنِى عُتْبَةُ بْنُ أَبِى حَكِيمٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِى أَبُو أَيُّوبَ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى هَذِهِ الآيَةِ (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ) فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ خَيْرًا فِى الطُّهُورِ فَمَا طُهُورُكُمْ هَذَا ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَهَلْ مَعَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِهِ ». قَالُوا لاَ غَيْرَ أَنَّ أَحَدَنَا إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَنْجِىَ بِالْمَاءِ. فَقَالَ « هُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ ». عُتْبَةُ بْنُ أَبِى حَكِيمٍ لَيْسَ بِقَوِىٍّ.
طلحہ بن نافع بیان کرتے ہیں : حضرت ابوایوب انصاری، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اور حضرت انس بن مالک انصاری (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے اس آیت کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے۔ (آیت یہ ہے :)” اس میں وہ لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں : وہ اچھی طرح پاکیزگی حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے “۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کے حوالے سے تمہاری بہت تعریف کی ہے، تمہارا طہارت حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں جنابت کی حالت میں غسل کرلیتے ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے علاوہ تمہارا کوئی اور بھی طریقہ ہے ؟ انھوں نے عرض کی : نہیں ! البتہ جب ہم میں سے کوئی شخص پاخانہ کرتا ہے، تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے، وہ پانی کے ذریعے استنجاء کرے۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی وجہ یہی ہوگی، تم اسے اختیار کیے رکھنا۔ اس روایت کا راوی عتبہ بن ابو حکیم مستند نہیں ہے۔