1732 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى بَنِى هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ أَخْبَرَنَا هُودُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَاجْتِهَادُهُ فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِاسْمِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ نَذْكُرُهُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ فَقُلْنَا هُوَ هَذَا . فَقَالَ « إِنَّكُمْ لَتُخْبِرُونَ عَنْ رَجُلٍ عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ». فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُسَلِّمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ قُلْتَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ مَا فِى الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلُ مِنِّى وَخَيْرٌ مِنِّى ». فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ». فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا. فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُصَلِّى فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَقْتُلُ رَجُلاً يُصَلِّى وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ فَخَرَجَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
1732 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جس کی عبادت و ریاضت ہمیں بہت پسند تھی ‘ ہم نے اس شخص کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ‘ ہم نے اس کا نام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لیا ‘ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے پہچان نہیں سکے ‘ جب ہم نے اس کا حلیہ بیان کیا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر بھی اسے نہیں پہچان سکے ‘ ابھی ہم اس شخص کا تذکرہ ہی کررہے تھے کہ اسی دوران وہ شخص سامنے آگیا ‘ ہم نے عرض کی یہ وہ شخص ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتا رہے ہو جس کے چہرے پر شیطان کا نشان ہے ‘ پھر وہ شخص آگے آیا اور ان لوگوں کے پاس آکر ٹھہر گیا اس نے سلام نہیں کیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے فرمایا میں تمہیں اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں کہ کیا تم نے ابھی ‘ جب تم اس محفل کے پاس آکر ٹھہرے ہو ‘ یہ سوچا ہے ‘ اس وقت ان حاضرین میں کوئی بھی شخص مجھ سے زیادہ فضیلت والا اور مجھ سے بہتر نہیں ہے ‘ اس شخص نے جواب دیا اللہ جانتا ہے ‘ ایسا ہی ہے ‘ پھر وہ شخص نماز پڑھنے لگا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اسے کون قتل کرے گا ؟ حضرت ابوب کرنے عرض کی میں ! حضرت ابوبکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہا تھا ‘ حضرت ابوبکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سوچا سبحان اللہ ! کیا میں ایسے شخص کو قتل کروں گا جو نماز اداکررہا ہے ‘ حالانکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آگئے (اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ہے) ۔