1745 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « ثَلاَثٌ مِنَ السُّنَّةِ الصَّفُّ خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ لَكَ صَلاَتُكَ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ وَالْجِهَادُ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ لَكَ جِهَادُكَ وَعَلَيْهِ شَرُّهُ وَالصَّلاَةُ عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَإِنْ كَانَ قَاتِلَ نَفْسِهِ ». عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكٌ.
1745 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں تین چیزیں سنت ہیں ہر امام کے پیچھے صف بناکر (باجماعت نماز ادا کرنا) تمہیں تمہاری نماز کا ثواب مل جائے گا ‘ اور اس کے گناہ کا بوجھ اس کے ذمے ہوگا اور ہرامیرہمراہ جہاد میں حصہ لینا ‘ تمہیں تمہارے بہاد کا ثواب ملے گا اور اس کا شر اس کے ذمے ہوگا ‘ اور اہل توحید میں سے ہر مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرنا ‘ اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔ اس روایت کا راوی عمربن صبح متروک ہے۔