175 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِى أَبُو زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْتِى دَارَ قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِى دَارَ فُلاَنٍ وَلاَ تَأْتِى دَارَنَا فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لأَنَّ فِى دَارِكُمْ كَلْبًا ». قَالُوا فَإِنَّ فِى دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « السِّنَّوْرُ سَبُعٌ ». تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ وَهُوَ صَالِحُ الْحَدِيثِ.
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ انصاریوں کے گھر تشریف لے گئے، ان کے گھروں سے پہلے جو گھر تھے (وہاں آپ تشریف نہیں لے کر گئے) تو یہ بات ان لوگوں کو گراں گزری ، انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ فلاں صاحب کے گھر تشریف لے آئے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لائے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے : تمہارے گھر میں کتا موجود ہے، انھوں نے عرض کی : ان کے گھر میں بلی موجود ہے، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلی درندوں میں شامل ہے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں عیسیٰ بن مسیب نامی راوی منفرد ہیں اور یہ احادیث نقل کرنے میں قابل اعتماد ہیں۔