1762 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِىُّ أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِىَّ فَقَالَ الزُّهْرِىُّ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً فَنَادَى فَقَالَ إِنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةٌ . قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِى دَاوُدَ هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ وَلَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ النِّدَاءَ لِصَلاَةِ الْكُسُوفِ.
1762 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا ‘ اس نے اعلان کیا کہ نماز باجماعت ادا کی جائے گی۔
ابن ابی داؤد نامی راوی کہتے ہیں یہ سنت ہے اور اسے نقل کرنے میں اہل مدینہ منورہ منفرد ہیں۔ زہری کے حوالے سے عبدالرحمن نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے ‘ نماز کسوف کے لیے اعلان کیا جائے۔