1771 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَصْطَخْرِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَمِرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىٍّ قَالَ إِنَّ لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ تَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ.
1771 محمد بن علی (اس سے مراد امام محمد الباقر (رض) ہوسکتے ہیں) فرماتے ہیں ہمارے مہدی کی دونشانیاں ہیں جو آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد کبھی رونما نہیں ہوئیں ‘ وہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہونا اور پندرھویں تاریخ کو سورج گرہن ہونا آسمان و زمین کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ‘ تو اس وقت سے لے کر اب تک (اس تاریخ میں یہ دونوں گرہن نہیں ہوئے) ۔