1803 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِى رَأْسِى وَأَنَا أَقُولُ وَارَأْسَاهُ فَقَالَ « بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهُ - ثُمَّ قَالَ مَا ضَرَّكِ لَوْ مُتِّ قَبْلِى فَكَفَّنْتُكِ ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ »
قَالَتْ كَأَنِّى بِكَ وَاللَّهِ لَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِى فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ بُدِئَ فِى وَجَعِهِ الَّذِى تُوُفِّىَ فِيهِ.
1803 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع (کے میدان میں کسی شخص کے جنازے میں شریک ہو کرواپس آئے) مجھے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہورہا تھا ‘ میں یہ کہہ رہی تھی ہائے میرا سر ! (اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ ہوگا ہائے ! میں مرگئی) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلکہ ہائے میرا سر ! پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کر جاتی ہو ‘ تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ میں تمہیں کفن دوں گا ‘ تمہاری نماز جنازہ اداکروں گا ‘ تمہیں دفن کروں گا۔ سیدہ عشاء (رض) نے عرض کی اللہ کی قسم ! جب آپ ایسا کرلیں گے تو واپس میرے گھر میں آئیں گے اور یہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیئے۔
اس کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس تکلیف کا آغازہوا ‘ جس میں آپ کا وصال ہوا۔