1819 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلاً كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلاً فَأُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَأُخْبِرَ فَقَالَ « انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ » فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَقَالَ « إِنَّ هَذِهِ الْقُبُوَرَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا بِصَلاَتِى عَلَيْهَا ». فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ.
وَهَذَا لَفْظُ عَلِىِّ بْنِ مُسْلِمٍ .
1819 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص مسجد (نبوی) کی صفائی کیا کرتا تھا ‘ اس کا انتقال ہوگیا اور اسے رات میں د فن کردیا گیا ‘ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی قبر کی طرف چلو ! پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگ اس شخص کی قبرپر تشریف لے گئے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ قبریں اپنے اہل (یعنی مردوں) کے لیے تاریکی سے بھرپورہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ میرے ان لوگوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے ان کی قبروں کو ان کے لیے روشن کردیتا ہے ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کی قبرپر تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
روایت کے یہ الفاظ علی بن مسلم نامی راوی کے ہیں۔