1828 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى عَلَى سَبْعِ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ فَجَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِى الْقِبْلَةَ وَصَفَّهُمْ صَفًّا وَاحِدًا - قَالَ - وَوَضَعَ جَنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِىٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدُ بْنُ عُمَرَ وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَفِى النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ وَأَبُو قَتَادَةَ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا السُّنَّةُ.
1828 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے سات افراد کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھائی ‘ جن میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی تو آپ نے مردوں کو اپنے آگے رکھا اور خواتین کو قبلے والی سمت میں رکھا ‘ آپ نے ان سب کے لیے ایک ہی صف بنادی۔
راوی بیان کرتے ہیں حضرت عمربن خطاب (رض) کی اہلیہ اور حضرت علی (رض) کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم (رض) اور ان کے صاحب زادے کی میت رکھی گئی۔
ان صاحب زادے کا نام زید بن عمر تھا۔
ان دنوں حضرت سعید بن العاص گورنر تھے اور حاضر ین میں حضرت عبداللہ بن عباس ‘ ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری اور حضرت قتادہ (رض) تھے۔
میں نے دریافت کیا یہ کیا طریقہ ہے ؟ انھوں نے بتایا یہ سنت ہے۔