1833 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قُلْنَا لِعَلِىٍّ حَدِّثْنَا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ وَمَنْ يُطِيقُهُ قَالَ قُلْنَا حَدِّثْنَا بِهِ نُطِيقُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا. قَالَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُمْهِلُ فَإِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَطَلَعَتْ فَكَانَ مِقْدَارَهَا مِنَ الْعَصْرِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ فِيهِنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الضُّحَى فَكَانَ مِقْدَارَهَا مِنَ الظُّهْرِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ صَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهِنَّ مِثْلَ الْقَوْلِ الأَوَّلِ ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهَا بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ثُمَّ يُصَلِّى بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ يُصَلِّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
1833 عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں ہم نے حضرت علی (رض) سے کہا آپ ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں ‘ تو انھوں نے فرمایا ان کی طاقت کون رکھ سکتا ہے ‘ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کی کہ آپ ہمیں اس بارے میں بتائیں جہاں تک ہماری طاقت ہوگی ہم اتنے ادا کرلیا کریں گے ‘ تو حضرت علی (رض) نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (نماز ادا کرلینے کے بعد) انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا۔ اور مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہوجاتاجتنا عصر کے (مغرب کی سمت میں بلند ہوتا ہے) ۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو رکعت ادا کرتے ‘ آپ ان کے درمیان فصل کرتے ہوئے فرشتوں ‘ انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مومنین اور مسلمانوں پر سلام بھیجتے پھر اس کے بعد آپ انتظار کرتے رہتے یہاں تک چاشت کے وقت وہ اتنابلند ہوجاتا کہ جتنی ظہر کے وقت میں مشرق کی سمت اس کی مقدار ہوتی۔ پھر آپ چار رکعت ادا کرتے جن کے درمیان سابقہ طریقے کے مطابق فصل کرتے ۔ پھر آپ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا تو آپ کر چار رکعت نماز ادا کرتے اور ان میں آپ مقرب فرشتوں ‘ انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام فصل کرتے۔ اس کے بعد آپ ظہر کی نماز کے بعد دو رکعت (سنت) ادا کرتے ہیں اور اس کی مانندفصل کرتے۔ پھر آپ سے پہلے چاررکعات (سنت) ادا کرتے ہیں اور ان کے درمیان بھی اسی طرح فصل کرتے۔