1859 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الأَسْلَمِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى عَنِ الْقَاسِمِ السَّامِىِّ - مِنْ وَلَدِ سَامَةَ بْنِ لُؤَىٍّ - عَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِى مَرْثَدٍ الْغَنَوِىِّ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا سَرَّكُمْ أَنْ تُقْبَلَ صَلاَتُكُمْ فَلْيَؤُمَّكُمْ خِيَارُكُمْ فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ ». إِسْنَادٌ غَيْرُ ثَابِتٍ. وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ضَعِيفٌ.
1859 حضرت ابومرثد غنوی (رض) جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ‘ بیان کرتیے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری نماز قبول ہوجائے تو تمہارے بہترین لوگ تمہاری امامت کریں کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے پروردگار کے درمیان نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس روایت کی سند ثابت نہیں ہے ‘ اس روایت کا راوی عبداللہ بن موسیٰ ضعیف ہے۔