1892 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْرَقِ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّفَّاحِ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِىَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ». يَكُونُ ذَلِكَ فِى التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالْحُبُوبِ فَأَمَّا الْقِثَّاءُ وَالْبِطِّيخُ وَالرُّمَّانُ وَالْقَصَبُ وَالْخُضَرُ فَعَفْوٌ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
1892 موسیٰ بن طلحہ ‘ معاذبن جبل (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جس زمین کو آسمان ‘ بعل (پانی کے قریب کھجور کا درخت لگاناتا کہ وہ درخت خود ہی زیرزمین پانی سے سیراب ہوجائے) اور بہتے ہوئے پانی (یعنی نہر وغیرہ) کے ذریعے سیراب کیا جائے ‘ اس میں عشر کی ادائیگی لازم قراردی جائے گی اور جس زمین کو پائی چھڑک کر (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جائے ‘ اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کھجور ‘ گندم ‘ دانوں میں زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ البتہ ککڑی ‘ تربوز ‘ سیب ‘ قصب اور دیگر سبزیوں میں یہ معاف ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف قراردیا ہے۔