1899 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّسَائِىُّ بُنَانٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ زَكَاةَ فِى شَىْءٍ مِنَ الْحَرْثِ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ فَفِيهِ الزَّكَاةُ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا وَلاَ زَكَاةَ فِى شَىْءٍ مِنَ الْفِضَّةِ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ وَالْوُقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ».
1899 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کسی بھی کھیت (زرعی پیداوار) میں زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی ‘ جب تک وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائے جب وہ پانچ وسق تک پہنچ جائے گی ‘ تو اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور چاندی میں زکوۃ اس وقت تک فرض نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اوقیہ نہ ہوجائے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے۔