1905 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِى الْمَسْعُودِىُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً. فَقَالُوا فَالأَوْقَاصُ قَالَ مَا أَمَرَنِى فِيهَا بِشَىْءٍ وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَأَلَهُ عَنِ الأَوْقَاصِ فَقَالَ « لَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ ». قَالَ الْمَسْعُودِىُّ وَالأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلاَثِينَ وَمَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ فَإِذَا كَانَتْ سِتُّونَ فَفِيهَا تَبِيعَانِ فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلاَثُ تَبَابِيعَ قَالَ بَقِيَّةُ قَالَ الْمَسْعُودِىُّ الأَوْقَاصُ هِىَ بِالسِّينِ الأَوْقَاسُ فَلاَ تَجْعَلْهَا بِصَادٍ.
1905 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن بھیجا تو انھیں یہ حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ ‘ ایک جذع یا ایک جذعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں ‘ لوگوں نے دریافت کیا گائے کے بچوں کا کیا حکم ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا ‘ جب میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جاؤں گا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کرلوں گا ‘ پھر جب حضرت معاذ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گائے کے بچھڑے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔
مسعودی نامی راوی بیان کرتے ہیں اوق اس (سے مراد یہ ہے ) جب ان کی تعدادتیس سے کم ہو ‘ جب گائے کی تعداد چالیس سے ساٹھ تک ہو ‘ تو اس میں دو تبیعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ ستر ہوجائیں گی ‘ تو ایک مسنہ کی ادائیگی اور ایک تبیع کی ادائیگی لازم ہوگی جب وہ اسی ہوجائیں گی ‘ تو اس میں دومسنہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ نوے ہوجائیں گی ‘ تو تین تبیع کی ادائیگی لازم ہوگی۔
مسعودی فرماتے ہیں لفظ اوق اس ’ س ‘ کے ساتھ لکھاجاتا ہے ‘ تم اسے ” ص “ کے ساتھ نہ لکھو۔