1936 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِىِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَيْهِمَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيَسُرُّكُمَا أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِأَسْوِرَةٍ مِنْ نَارٍ ». قَالاَ لاَ. قَالَ « فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا ». وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَقَالَ أَيْضًا « فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا عَلَيْكُمَا ». يَعْنِى الزَّكَاةَ. حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ.
1936 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں یمن سے تعلق رکھنے والی دوخواتین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ انھوں نے سونے کنگن پہنے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے دریافت کیا کیا تم دونوں اس بات کو پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ انھوں نے جواب دیا جی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھر تم دونوں اس کا حق اداکرو۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ان دونوں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے ‘ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ) پھر تم دونوں اس کا حق اداکروجوتم پر لازم ہے۔ (راوی کہتے ہیں ) اس سے مراد زکوۃ تھی۔ اس روایت کا راوی حجاج ‘ یہ حجاج بن ارطاء ہے اور یہ مستند نہیں ہے۔