1938 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِى مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْهُ عَنْ طَوْقٍ لَهَا فِيهِ عِشْرُونَ مِثْقَالاً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَتْ أُزَكِّيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ كَمْ قَالَ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ قَالَتْ أُعْطِيهَا فَلاَنًا ابْنُ أَخٍ لَهَا يَتِيمٌ فِى حَجْرِهَا. قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ.
1938 ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ نے ان سے اپنے ایک ہار کے بارے میں دریافت کیا جو بیس مثقال کا تھا اور سونے سے بنا ہوا تھا ‘ اس خاتون نے دریافت کیا کیا میں اس کی زکوۃ اداکروں گی ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے جواب دیا جی ہاں ! اس خاتون نے دریافت کیا کتنی ؟ تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے جواب دیا پانچ درہم ‘ اس خاتون نے دریافت کیا کیا میں یہ فلاں شخص کو اداکردوں ‘ اس خاتون نے اپنے بھتیجے کے بارے میں دریافت کیا جو یتیم تھا اور اس خاتون کے زیر پرورش تھا ‘ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا اگر تم چاہوتو ایسا کرسکتی ہو۔