194- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِىِّ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَمُرُّ بِهِ الْهِرَّةُ فَيُصْغِى لَهَا الإِنَاءَ فَتَشْرَبُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ هَذَا هُوَ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِى. وَعَبْدُ رَبِّهِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : بعض اوقات کوئی بلی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آجاتی تھی تو آپ برتن اس کی طرف بڑھا دیتے تھے اور وہ اس میں پانی پی لیتی تھی اور پھر آپ بلی کے جو ٹھے پانی سے وضو کرلیا کرتے تھے۔
ابوبکر نامی راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت کے راوی یعقوب ہیں یہ قاضی ابویوسف ہیں، اور عبدربہ نامی راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہیں، جو ضعیف ہیں۔