1950 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى رَافِعٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ أَقْطَعَ أَبَا رَافِعٍ أَرْضًا فَلَمَّا مَاتَ أَبُو رَافِعٍ بَاعَهَا عُمَرُ بِثَمَانِينَ أَلْفًا فَدَفَعَهَا إِلَى عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنهما فَكَانَ يُزَكِّيهَا فَلَمَّا قَبَضَهَا وَلَدُ أَبِى رَافِعٍ عَدُّوا مَالَهُمْ فَوَجَدُوهُ نَاقِصًا فَأَتَوْا عَلِيًّا فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهَا قَالُوا لاَ. قَالَ فَحَسَبُوا زَكَاتَهَا فَوَجَدُوهَا سَوَاءً فَقَالَ عَلِىٌّ أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ يَكُونُ عِنْدِى مَالٌ لاَ أُؤَدِّى زَكَاتَهُ.
1950 حضرت ابورافع (رض) کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابورافع (رض) کو کچھ زمین گیر کے طورپر عطاء کی ‘ جب حضرت ابورافع (رض) کا انتقال ہوا تو حضرت عمر (رض) نے اس زمین کو ٨٠ ہزار کے عوض میں فروخت کردیا اور وہ مال حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے سپرد کیا ‘ حضرت علی (رض) اس کی زکوۃ ادا کرتے رہے ‘ جب حضرت ابورافع (رض) اپنی اولاد نے اس مال کو اپنے قبضے میں لیا ‘ تو انھوں نے اپنے مال کی گنتی کی تو اسے کم پایا ‘ وہ لوگ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور انھیں اس بارے میں بتایاتو حضرت علی (رض) نے دریافت کیا کیا تم نے اس کی زکوۃ کا حساب لگایا ہے ‘ انھوں نے جواب دیا اس ! راوی بیان کرتے ہیں ان لوگوں نے اس کی زکوۃ کا حساب لگایا تو اسے پوراپایا۔ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تم لوگ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کوئی مال موجود ہوگا اور میں اس کی زکوۃ ادا نہیں کروں گا۔