1954 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْقِرْمِيسِينِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُنِيرُ بْنُ الْعَلاَءِ عَنِ الأَشْعَثِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَعْطَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلاَهُ أَرْضًا فَعَجَزَ عَنْهَا فَمَاتَ فَبَاعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِمِائَتَىْ أَلْفٍ وَثَمَانِيَةِ آلاَفِ دِينَارٍ وَأَوْصَى إِلَى عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه فَكَانَ يُزَكِّيهَا كُلَّ سَنَةٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَنُوهُ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ نَاقِصًا فَأَتَوْهُ فَقَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا مَالَنَا نَاقِصًا. فَقَالَ أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهُ قَالُوا لاَ. قَالَ احْسِبُوا زَكَاتَهُ . فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سَوَاءً.
1954 مجاہد ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے غلام حضرت ابورافع (رض) کو کچھ زمین عطاء کی ‘ وہ اس کا خیال نہیں رکھ سکے ‘ ان کا انتقال ہوگیا ‘ حضرت عمربن خطاب (رض) نے اس زمین لاکھ اسی ہزاردینار کے عوض میں فروخت کردیا ‘ انھوں نے حضرت علی بن ابوطالب (رض) کو اس رقم کا نگران مقرر کیا ‘ علی (رض) ہر سال اس کی زکوۃ ادا کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ جب حضرت ابورافع (رض) کے بچے بڑے ہوگئے تو حضرت علی (رض) وہ مال کم لگا ہے ‘ حضرت علی (رض) نے دریافت کیا کیا تم لوگوں زکوۃ کا حساب لگایا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا حضرت علی (رض) نے جواب دیا اس کی زکوۃ کا حساب لگاؤ ‘ جب انھوں نے اس کا حساب لگایاتو اسے پوراپایا۔