1979 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ أَبُو يَعْقُوبَ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ سَأَلَ وَلَهُ غِنًى جَاءَ وَفِى وَجْهِهِ كُدُوحٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ خُمُوشٌ ». قِيلَ وَمَا غِنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ». حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَتْرُوكٌ.
1979 حضرت عبداللہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص کسی سے کچھ مانگے حالانکہ وہ خوشحال ہو ‘ تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے پر داغ ہوگا (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ! اس کی خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا (موجود ہونا) ۔ حکیم بن جبیرنامی راوی متروک ہے۔