hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 1995

.

سنن الدارقطني

1995
Sunan Al Daraqutni
1995 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ إِنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوا إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا كُرَاعًا وَرَقِيقًا وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ نُزَكِّيَهُ قَالَ مَا فَعَلَهُ صَاحِبَاىَ قَبْلِى وَلاَ أَفْعَلُهُ حَتَّى أَسْتَشِيرَ فَشَاوَرَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالُوا حَسَنٌ. وَسَكَتَ عَلِىٌّ فَقَالَ أَلاَ تَكَلَّمُ يَا أَبَا حَسَنٍ فَقَالَ قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ وَهُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ تَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا بَعْدَكَ. قَالَ فَأَخَذَ مِنَ الرَّقِيقِ عَشْرَةَ الدَّرَاهِمِ وَرَزَقَهُمْ جَرِيبَيْنِ مِنْ بُرٍّ كُلَّ شَهْرٍ وَأَخَذَ مِنَ الْفَرَسِ عَشْرَةَ الدَّرَاهِمِ وَرَزَقَهُ عَشْرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ وَأَخَذَ مِنَ الْمَقَارِيفِ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ وَأَخَذَ مِنَ الْبَرَاذِينِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا خَمْسَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا جِزْيَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَعْطِيَاتِنَا زَمَانَ الْحَجَّاجِ وَمَا نُرْزَقُ عَلَيْهَا. قَالَ الشَّيْخُ الْمُقْرِفُ مِنَ الْخَيْلِ دُونَ الْجَوَادِ.
1995 حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں مصر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے بتایا ہمیں کچھ زمین اور کچھ غلام ملے ہیں ‘ ہم چاہتے ہیں ‘ ان کی زکوۃ ادا کردیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو عمل نہیں کیا ‘ میں بھی وہ اس وقت تک نہیں کروں گا ’ جب تک اس بارے میں مشورہ نہ لوں ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا ‘ تو ان سب نے اسے ٹھیک قراردیا ‘ حضرت علی (رض) خاموش رہے ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے ابوالحسن ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات کیوں نہیں کررہے ؟ تو حضرت علی (رض) بولے ان حضرات نے آپ کو جو مشورہ دیا ہے یہ ٹھیک ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ایسا ٹیکس نہ ہو جو آپ کے بعد بھی انھیں اداکرناپڑے تو حضرت عمر (رض) نے ایک غلام کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے اور انھیں گندم کے دوجریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قراردی۔ گھوڑے کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے۔ اور اسے جو کے دس جریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قراردی۔ عام گھوڑے کی طرف سے ٨ درہم وصول کیے اور اسے ٨ جریب جو ماہانہ خوراک کی ادائیگی لازم قراردی۔ خچر کی طرف سے ٥ درہم وصول کیے اور اسے ٥ جریب جو ماہانہ خوراک کے طور پر دینا لازم قراردیا۔
ابواسحاق نامی راوی کہتے ہیں حجاج کے زمانے میں ہم سے یہ وصول کرلی جاتی تھی مگر ہمارے حصے کی ادائیگی نہیں کی جاتی تھی۔ شیخ (امام دار قطنی) فرماتے ہیں ” مقرف “ وہ گھوڑا ہوتا ہے جو تیزرفتار گھوڑے سے کم رفتار ہی چلتا ہے۔