201 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ وَبَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « طُهُورُ الإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ الأُولَى بِالتُّرَابِ وَالْهِرُّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ». قُرَّةُ شَكَّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ كَذَا رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ مَرْفُوعًا وَرَوَى غَيْرُهُ عَنْ قُرَّةَ وُلُوغُ الْكَلْبِ مَرْفُوعًا وَوُلُوغُ الْهِرِّ مَوْقُوفًا.
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : جب کسی برتن میں کوئی کتا منہ ڈال دے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے، اسے سات مرتبہ دھولیا جائے، اور پہلی مرتبہ اسے مٹی کے ذریعے صاف کیا جائے ، اور بلی کے بارے میں حکم یہ ہے، اسے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھولیا جائے۔ یہ شک قرہ نامی راوی کو ہے۔
ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : ابو عاصم نامی راوی نے اس روایت کو ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے کتے کے بارے میں حکم کو ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے اور بلی کے منہ ڈالنے کے حکم کو ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔