2027 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِىَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ - قَالَتْ - وَكَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ تَطِيبُ أَوَّلُ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهَا ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ يَأْخُذُونَهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَوْ يَدْفَعُونَهَا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْخَرْصِ لِكَىْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ. رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِى الأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ. وَأَرْسَلَهُ مَالِكٌ وَمَعْمَرٌ وَعُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مُرْسَلاً.
2027 سیدہ عائشہ (رض) ایک مرتبہ خیبر کے بارے میں ذکر کررہی تھیں انھوں نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کو یہودیوں کی طرف بھیجا ‘ جب پھل تیار ہوگیا ‘ تو انھوں نے کھجوروں کے درختوں کی پیداوار کا اندازہ لگایا ‘ پھر انھوں نے یہودیوں کو اختیاردیا کہ وہ اس اندازے کے حساب سے وصولی کرلیں یا اس اندازے کے حساب سے انھیں ادائیگی کردیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اندازہ لگانے کا حکم دیاتھاتا کہ زکوۃ کی گنتی پھل کے تیار ہونے سے پہلے کرلی جائے اور اسے الگ کردیا جائے۔
یہی روایت حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ امام مالک نے اسے مرسل روایت کے طورپر نقل کیا ہے۔