2030 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ دُلَّنِى عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِى مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِى مِنَ النَّارِ قَالَ « لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَا وَاحِدًا قَالَ « لاَ عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تُفْرِدَ بِعِتْقِهَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِى ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَىْءُ عَلَى ذِى الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلاَّ مِنْ خَيْرٍ ».
2030 حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری راہنمائی کریں جو مجھے جنت سے قریب کردے اور جہنم سے دورکردے ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم کلام مختصر کروتو مانگنے سے گریز کرو ‘ غلام کو آزاد کرو ‘ گردن کو چھڑادو (غلام یاکنیز کو آزاد کردو) اس نے عرض کی یارسول اللہ ! یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں ! جان کو آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے تم اسے آزاد کردو اور گردن کو چھڑانے کا مطلب یہ ہے تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں اس کی مددکرو ‘ زیادہ دودھ دینے والی (اونٹنی یابکری کو) کسی معاوضے کے بغیر دے دو اور زیادتی کرنے والے رشتہ دار کے ساتھ تعلق برقراررکھو ‘ اگر تم یہ نہیں کرسکتے تو اپنی زبان سے صرف بھلائی کی بات کہو۔