2042 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَتِيقٍ الْعَبْسِىُّ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلاَنِىُّ حَدَّثَنِى سَيَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِىُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « زَكَاةُ الْفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ فَهِىَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَهِىَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ ».
2042 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے صدقہ فطر روزہ دار خاص کے لیے لغو اور رفث سے پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے اور غریب آدمی کو کھانے کے طور پر مل جاتا ہے جو شخص اسے نماز سے پہلے اداکردے گا ‘ تو یہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو شخص اسے نماز کے بعد اداکرے گا ‘ تو یہ عام صدقہ ہے۔
اس روایت کے رادیوں میں کوئی بھی مجروح نہیں ہے۔