2072 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُوذِىُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِى حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ - الَّذِى كَانَ يَسْكُنُ الْجَزِيرَةَ وَهُوَ سَابِقٌ - عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِى سَرْحٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ يَوْمَ الْفِطْرِ صَاعَ طَعَامٍ أَوْ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فَقَالَ إِنِّى لأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا ذَكَرَ النَّاسُ الْمُدَّيْنِ .
2072 حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں ہم عیدالفطر کے دن صدقہ فطرادا کیا کرتے تھے جو اناج کا ایک صاع ہوتا تھا یاکھجورکا ایک صاع ہوتا تھا یا جو کا ایک صاع ہوتا تھا یاکشمش کا ایک صاع ہوتا تھا یانپیرکا ایک صاع ہوتا تھا ‘ ہم اسی طرح ادائیگی کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ حضرت معاویہ (رض) حج یاعمرہ کرنے کے لیے شام سے ہمارے پاس تشریف لائے وہ اس وقت غلفیہ وقت تھے ‘ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیا ‘ انھوں نے صدقہ فطرکا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی میں یہ سمجھتاہوں کہ شام کی گندم کے دومد کھجور کے ایک صاع کے برابر ہوتے ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں اس وقت لوگوں نے سب سے پہلے دومد کا ذکر کیا۔