2118 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَآخَرُونَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَهْ حَدَّثَنَا الْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِى هِنْدٍ عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ بَجَالَةَ قَالَ لَمْ يَأْخُذْ عُمَرُ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَخَذَهَا مِنْهُمْ.
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ جَالِسًا بِبَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ مِنْهُمْ ثُمَّ خَرَجَا فَقُلْتُ مَاذَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيكُمْ فَقَالاَ الإِسْلاَمُ أَوِ الْقَتْلُ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَتَرَكُوا قَوْلِى.
2118 بجالہ نامی راوی بیان کرتے ہیں حضرت عمر (رض) پہلے مجوسیوں سے جزیہ وصول نہیں کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ بات بیان کی ہے ایک مرتبہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا ‘ دو آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ پھر وہ دونوں باہرنکل آئے تو میں نے دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کے بارے میں کیا فیصلہ دیا ہے ؟ تو ان دونوں نے بتایا (یہ فیصلہ دیا ہے) یا ہم اسلام قبول کرلیں یا قتل ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں تو لوگوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کے بیان کو اختیار کرلیا اور میری روایت کو ترک کردیا۔