2123 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأُبُلِّىُّ حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى وَالِيهَا فَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ هِلاَلِ رَمَضَانَ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَهَادَتِهِ فَأَمَرَاهُ أَنْ يُجِيزَهُ وَقَالاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ . قَالاَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُجِيزُ شَهَادَةَ الإِفْطَارِ إِلاَّ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ. تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأُبُلِّىُّ أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
2123 طاؤس بیان کرتے ہیں میں مدینہ منورہ میں موجود تھا ‘ وہاں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بھی موجود تھے ‘ ایک شخص وہاں کے گورنر کے پاس آیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی (یعنی رمضان کا چاند دیکھنے تو گور نرنے حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے اس شخص کی گواہی کے بارے میں دریافت تو ان دونوں نے کہا کہ اس کی گواہی کو برقرار رکھا جائے ‘ پھر ان دونوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا چانددیکھنے کے بارے میں ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔ ان دونوں حضرات نے یہ بات بھی بیان کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالفطر کے چاند کے بارے میں دو آدمیوں کی ہی قبول کیا کرتے تھے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں ابواسمعیل حفص نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔