2142 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ». زَادَ ابْنُ مُرْشِدٍ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَى شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَبْعَثُ مَنْ يَنْظُرُ فَإِنْ رَأَى فَذَاكَ وَإِنْ لَمْ يَرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ لاَ يُفْطِرُ إِلاَّ مَعَ النَّاسِ.
2142 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے (مہینہ) بعض اوقات انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ تم اس وقت تک روزہ رکھنا نہ شروع کروجب تک اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ نہیں لیتے اور اس وقت تک روزے رکھنابندنہ کروجب تک اسے یعنی (شوال کے) چاند کو نہیں دیکھ لیتے ‘ اگر بادل چھائے ہوں تو اس کی گنتی پوری کرلو “۔ (ابن مرشدنامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی ہے ‘ نافع بیان کرتے ہیں ) جب شعبان کے انتیس دن گزرجاتے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کسی سے کہتے جو چاند نظر آنے کا جائزہ لے ‘ اگر نظر آجاتا توٹھیک ‘ اگر نظرنہ آتا تو اس دوران چاند کو دیکھنے میں کوئی بادل یاغبارحائل نہ ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اگلے دن روزہ نہیں رکھتے تھے اور اگر (چاند نظر نہ آتا تو ) اور اسے دیکھنے میں غباریابادل حائل ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اگلے دن روزہ رکھتے تھے۔
راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنے ختم کرتے تھے۔