hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2185

.

سنن الدارقطني

2185
Sunan Al Daraqutni
2185 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى حَرْمَلَةَ أَخْبَرَنِى كُرَيْبٌ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ - قَالَ - فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَىَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِى آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِى بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ قَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
2185 کریب بیان کرتے ہیں سیدہ ام الفضل بنت حارث (رض) نے انھیں حضرت معاویہ (رض) کی خدمت میں بھیجا وہ فرماتے ہیں میں شام آیا ‘ سیدہ ام فضل کا کام پورا کیا ‘ اسی دوران رمضان کا چاند نظر آگیا میں شام میں ہی موجود تھا ‘ میں نے جمعے کی رات میں چاند دیکھا ‘ پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس نے مجھ سے چیت کی ‘ پھر جب میں نے پہلی کے چاند کا تذکرہ کیا ‘ تو انھوں نے پوچھا تم نے پہلی کا چاندکب دیکھا تھا ؟ تو میں نے جواب میں نے اسے جمعہ کی رات میں دیکھا تھا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے پوچھا کیا تم نے خودا سے دیکھا تھا ؟ میں نے کہا ہاں ! اور لوگوں نے بھی اسے دیکھا تھا ‘ میں نے روزہ بھی رکھا تھا ‘ حضرت معاویہ (رض) نے بھی روزہ رکھا تھا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا ہم نے تو اسے ہفتے کی رات دیکھا تھا اور ہم مسلسل روزے رکھیں گے ‘ یہاں تک کہ تیس کی تعدادپوری کرلیں یاشوال کا چاند دیکھ لیں تو میں نے ان سے کہا کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ (رض) کا چاند کو دیکھنا اور روزہ رکھنا کا نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہی ہدایت کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے۔