2192 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ اللَّخْمِىِّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- تَقُولُ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَائِمًا صُبْحَ ثَلاَثِينَ يَوْمًا فَرَأَى هِلاَلَ شَوَّالٍ نَهَارًا فَلَمْ يُفْطِرْ حَتَّى أَمْسَى. قَالَ وَحَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رُئِىَ هِلاَلُ شَوَّالٍ نَهَارًا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ مِنْ حَيْثُ يُرَى. قَالَ وَحَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِىُّ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِىَّ عَنْ هِلاَلِ شَوَّالٍ إِذَا رُئِىَ بَاكِرًا قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِنْ رُئِىَ هِلاَلُ شَوَّالٍ بَعْدَ أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى الْعَصْرِ أَوْ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَهُوَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِى تَجِىءُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ.
2192 حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ایک مرتبہ تیسویں تاریخ کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزے کی حالت میں صبح کی ‘ آپ نے دن میں ہی شوال کا چاند دیکھ لیا ‘ تو آپ نے شام میں افطار ی نہیں کی۔
حضرت سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ انھوں نے دن کے وقت شوال کا چاند دیکھ لیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا تمہارے لیے اس وقت تک افطاری کرنا حلال نہیں ہے جب تک تم پہلی کا چاند اس وقت تک نہیں دیکھ لیتے جب اسے دیکھاجاتا ہے (یعنی رات کے وقت) ۔
معاذبن محمد بیان کرتے ہیں میں نے زہری سے شوال کے چاند کے بارے میں دریافت کیا ‘ جب اسے صبح کے وقت دیکھا لیا جائے ‘ تو انھوں نے فرمایا میں نے سعید بن مسیب کو فرماتے ہوئے سنا ہے اگر شوال کا چاند صبح صادق ہوجانے کے بعد عصرتک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں مغرب تک) طلوع ہوجائے تو اس رات کا چاند شمار ہوگا جو آگے آئے گی۔
امام ابوعبداللہ فرماتے ہیں اس بات پر سب کا اتفاق ہے۔