2194 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُتِىَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِى فَشَرِبْتُ فَقُلْتُ يَا نَبِىَّ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ صَائِمَةً . فَقَالَ لَهَا « أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا » قَالَتْ لاَ. قَالَ « فَلاَ يَضُرُّكِ ». اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ فِيهِ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ جَعْدَةَ وَهُوَ الَّذِى رَوَى عَنْهُ سِمَاكٌ.
2194 سیدہ ام ہانی رضی الہ عنہا کے صاحبزاے بیان کرتے ہیں انھوں نے سیدہ ام ہانی (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مشروب لایا گیا ‘ آپ نے اسے پیا ‘ پھر میری طرف بڑھادیا ‘ پھر میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے کوئی قضاء روزہ رکھا تھا ؟ انھوں نے عرض کی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔
سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔