2198 - حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ هَارُونَ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا صَائِمَةٌ فَنَاوَلَنِى فَضْلَ شَرَابِهِ فَشَرِبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ صَائِمَةً وَإِنِّى كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ. قَالَ « إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِى يَوْمًا مَكَانَهُ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلاَ تَقْضِيهِ ».
2198 ہارون اپنی دادی (سیدہ ام ہانی (رض)) سے یہ بات نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ میں نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مشروب کا بچا ہوامیری طرف بڑھایاتو میں نے اسے پی لیا ‘ پھر میں نے عرض کی میں نیروزہ رکھا ہوا تھا اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں تھی کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بچے ہوئے کو واپس کروں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تو یہ رمضان کی قضاء کا روزہ تھا تو تم اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ لینا اور اگر نفلی روزہ تھا تو اگر تم چاہتو اس کی قضاء کرلینا ‘ اگر چاہوتو قضاء نہ کرنا۔
اس روایت کو حاتم بن ابوصغیرہ نے سماک کے حوالے سے ‘ ابوصالح کے حوالے سے ‘ سیدہ ام ہانی (رض) سے نقل کیا ہے۔