2229 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَوَّلُ مَا كُرِهَتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِى طَالِبٍ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَفْطَرَ هَذَانِ » ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدُ فِى الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَكَانَ أَنَسٌ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَلاَ أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً.
2229 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں پہلے میں روزہ دارشخص کے لیے پچھنے لگوانے کو مکروہ نہیں سمجھتا تھا ‘ ایک مرتبہ حضرت جعفر بن ابوطالب (رض) پچھنے لگوار ہے تھے اور انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ دار شخص کے لیے پچھنے لگوانے کی رخصت عطا کردی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت انس (رض) روزے کی حالت میں پچھنے لگوالیا کرتے تھے۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور مجھے اس میں کسی علت کا علم نہیں ہے۔