2262 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّبَّعِىُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا مَعَهُ فَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ الصَّلاَةَ وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَى مَكَّةَ قُلْتُ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ قَالَ « أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ». وَمَا عَابَهُ عَلَىَّ . قَالَ الشَّيْخُ الأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ وَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ وَهُوَ مَعَ أَبِيهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنْهَا.
2262 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کیا ‘ میں آپ کے ساتھ تھی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصر نماز ادا کی ‘ میں نے مکمل نماز ادا کی ‘ آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے روزہ رکھا ‘ جب میں مکہ کے قریب پہنچی تو میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ نے قصر نماز ادا کی ‘ میں نے مکمل نماز ادا کی ‘ آپ نے روزہ نہیں رکھا ‘ میں نے روزہ رکھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا عائشہ ! تم نے ٹھیک کیا ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حوالے سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ شیخ فرماتے ہیں پہلی روایت مستند ہے اور اس کی سند متصل ہے۔
عبدالرحمن نامی راوی نے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کا زمانہ پایا ہے ‘ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ‘ جب وہ ابھی قریب البلوغ بچے تھے ‘ وہ اس وقت اپنے والد کے ہمراہ تھے ‘ انھوں نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔