2269 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِى مُرَاوِحٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ لَهِيعَةَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِى مُرَاوِحٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِىِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَجِدُ بِى قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِى السَّفَرِ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هِىَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ مَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ ». هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. وَخَالَفَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِىَّ سَأَلَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْقَوْلاَنِ صَحِيحَيْنِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
2269 حضرت حمزہ بن عمرواسلمی (رض) بیان کرتے ہیں انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اپنے اندریہ قوت پاتاہوں کہ سفر کے دوران روزہ رکھوں ‘ کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا (اگر میں روزہ رکھ لیتاہوں) ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اس کو قبول کرلے گا وہ اچھا کرے گا ‘ اور جو روزہ رکھنا چاہے گا ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ اس روایت کی سند صحیح ہے ‘ ہشام بن عروہ نے اس کی سند میں اختلاف کیا ہے۔
انہوں نے اسے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ‘ اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ حضرت حمزہ بن عمرونے سوال کیا تھا۔ اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ یہ دونوں روایات درست ہوں ‘ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔