2271 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ عِيسَى بْنُ أَبِى عِمْرَانَ الْبَزَّازُ بِالرَّمْلَةِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. قَالَ « وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ ». قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِى فِى يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ. فَقَالَ « أَعْتِقْ رَقَبَةً ». قَالَ مَا أَجِدُ. قَالَ « فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ مَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ مَا أَجِدُ. قَالَ فَأُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقِ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ « خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ ». قَالَ عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِى فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِى فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ « خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ». هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
2271 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہوگیا ہوں ‘ آپ نے دریافت کیا تمہارا ستیاناس ہو ! کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی میں نے رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایک غلام آزاد کرو ‘ اس نے عرض کی میرے پاس یہ نہیں ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم لگا تار دو ماہ کے روزے رکھو ‘ اس نے عرض کی میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ‘ اس نے عرض کی میرے پاس اس کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھجوروں کی بوری آئی جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے لوا ورا سے صدقہ کر دو ‘ اس نے عرض کی کیا میں اپنے گھر سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں ‘ اللہ کی قسم ! مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان میرے گھروالوں سے زیادہ ضرورت مند اور کوئی نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراد ف کے دانت بھی ظاہر ہوگئے ‘ آپ نے فرمایا اسے لو ! اللہ تعالیٰ سے مغفرت کرو اور یہ اپنے گھروالوں کو کھلاؤ۔ اس کی سند صحیح ہے۔