2300 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو سَعِيدٍ السِّجِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ تَقْطِيعِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ « أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَاهُ الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ حَتَّى يَقْضِيَهُ هَلْ كَانَ ذَلِكَ قَضَاءَ دَيْنِهِ أَوْ قَاضِيَهِ ». قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . نَحْوَهُ. كَذَا قَالَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ.
2300 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رمضان کے روزوں کی قضاء الگ ‘ الگ کے رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا تماہرا کیا خیال ہے ‘ اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ درہم یاددرہم اداکردے ‘ یہاں تک کہ اسی طرح وہ سب اداکردے تو کیا اس کے ذمے قرض کی ادائیگی لازم ہوگی یا اسے بلی کرنے والاشمار کیا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی جی ہاں ! یارسول اللہ ! یہ روایت ابوزبیر کے حوالے سے حضرت جابر (رض) سے منقول ہے۔