2307 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُتَيْبَةَ الْمُعَيْطِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ سَأَلَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ - قَالَ عَنْبَسَةُ وَهُوَ أَخُو يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ - نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مَرِضَ فَطَالَ بِهِ مَرَضُهُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ رَمَضَانَانِ أَوْ ثَلاَثَةٌ فَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَلَمْ يَكُنْ صَامَ رَمَضَانَ الْخَالِىَ فَلْيُطْعِمْ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ ثُمَّ لَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ.
2307 یونس بیان کرتے ہیں سعید بن زید نے (عنبسہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہ صاحب یونس کے بھائی ہیں) نافع سے جو عبداللہ بن عمر (رض) کے غلام ہیں ‘ سوال کیا ایسے شخص کے بارے میں جو بیمار ہوجاتا ہے اور اس کی بیماری طویل جاتی ہے ‘ یہاں تک کہ بیماری کے دوران دو باتیں رمضان گزرجاتے ہیں (تو وہ شخص روزے نہیں رکھ پاتا) ۔ نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) یہ فرمایا کرتے تھے جس شخص کو رمضان کا زمانہ مل جائے اور وہ رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھ سکے تو ہر ایک روزے کے عوض میں ایک مسکین کو گندم کا ایک مدکھلادیاکرے تو پھر اس کے ذمے قضاء لازم نہیں رہے گی۔