2315 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً جَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى يَوْمِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
2315 زیادبن جبیربیان کرتے ہیں مجھے یاد ہے ‘ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ وہ شخص بولا کہ اس نے یہ نذرمانی تھی کہ وہ ہر بدھ کو روزہ رکھے گا ‘ تو یہ دن عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن آگیا ‘ تو اب (اسے کیا کرنا چاہیے) ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نذرکوپورا کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ اس کی سند مستند ہے۔