hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2329

.

سنن الدارقطني

2329
Sunan Al Daraqutni
2329 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ التُّبَّعِىُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَهُنَّ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ لاَ يَخْرُجَ إِلاَّ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ وَلاَ يَتْبَعَ جَنَازَةً وَلاَ يَعُودَ مَرِيضًا وَلاَ يَمَسَّ امْرَأَةً وَلاَ يُبَاشِرَهَا وَلاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ فِى مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ وَسُنَّةُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ. يُقَالُ إِنَّ قَوْلَهُ وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ إِلَى آخِرِهِ لَيْسَ مِنْ قَوْلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَّهُ مِنْ كَلاَمِ الزُّهْرِىِّ وَمَنْ أَدْرَجَهُ فِى الْحَدِيثِ فَقَدْ وَهِمَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يَذْكُرْهُ.
2329 عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب نے یہ بات بیان کی ہے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے انھیں یہ بتایا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے مہینے میں آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ‘ آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی ان دونوں میں اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہرنکلے گا ‘ وہ جنازے میں شریک نہیں ہوگا ‘ مریض کی عیادت کے لیے نہیں جائے گا ‘ وہ عورت کو چھوئے گا نہیں اور اس کے ساتھ مباشرت نہیں کرے گا ‘ اور اعتکاف صرف اس مسجد میں ہوسکتا ہے جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے اور اعتکاف کرنے والے شخص کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ روزہ بھی رکھے۔ ایک قول کے مطابق اس روایت کے یہ الفاظ ہیں اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے۔ اس کے بعد سے لے کر روایت کے آخرتک کا حصہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں ہے ‘ بلکہ (اس روایت کے راوی) زہری کا کلام ہے ‘ جنہوں نے اسے حدیث میں ہی درج کردیا ہے جس کی وجہ سے یہ وہم ہوا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ہشام بن سلیمان نامی راوی نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔