233 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ النَّبِيذُ وَضُوءٌ إِذَا لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ. قَالَ الأَوْزَاعِىُّ إِنْ كَانَ مُسْكِرًا فَلاَ يَتَوَضَّأُ بِهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِى كُلُّ شَىْءٍ تَحَوَّلَ عَنِ اسْمِ الْمَاءِ لاَ يُعْجِبُنِى أَنْ يُتَوَضَّأَ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ.
عکرمہ (رح) بیان کرتے ہیں : جو شخص نبیذ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ پائے ، وہ نبیذ کے ذریعے وضو کرسکتا ہے۔ امام اوزاعی (رح) بیان کرتے ہیں : اگر وہ نبیذ نشہ آور ہو ، تو آدمی اس کے ذریعے وضو نہیں کرے گا۔
عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : ہر وہ چیز جسے پانی نہ کہا جاسکے، اس کے بارے میں میرے نزدیک پسندیدہ رائے یہی ہے، آدمی اس کے ذریعے وضو ن کرے، اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے، آدمی نبیذ کے ذریعے وضو کرنے کی بجائے تیمم کرے۔