2361 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ وَعُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ . قَالَ « وَمَا أَهْلَكَكَ ». قَالَ أَتَيْتُ أَهْلِى فِى شَهْرِ رَمَضَانَ. قَالَ « هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ». قَالَ لاَ. قَالَ « فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ لاَ أُطِيقُ الصِّيَامَ. قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدًّا ».قَالَ مَا أَجِدُهُ. فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا. قَالَ « أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ وَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا . قَالَ « انْطَلِقْ فَكُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ فَقَدْ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ ».
2361 محمد بن حسن اپنے والد (حسن ) کے حوالے سے ‘ ان کے والد (امام زین العابدین (رض)) کے حوالے ان کے دادا (امام حسین (رض)) کے حوالے سے ‘ حضرت علی بن ابوطالب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہوگیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کس چیز نے تمہیں ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ اس نے عرض کی میں نے رمضان میں (روزے کے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کرلی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تمہارے پاس کوئی غلام یاکنیز ہے ؟ اس عرض کی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو ‘ اس نے عرض کی میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ‘ ہر ایک مسکین کو ایک مددو ‘ اس نے عرض کی میں اس کی گنجائش نہیں رکھتا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے یہ ہدایت کی کہ اسے پندرہ صاع دیئے جائیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادو ‘ اس نے عرض کی اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! پورے شہر میں ہمارے گھروالوں سے زیادہ محتاج اور کوئی نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم جاؤا سے تم بھی کھاؤ اور تمہارے گھروالے بھی کھائیں ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے کفارہ ادا کردیا ہے۔